تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
گلیاں رو رہی تھیں، بازار رو رہے تھے، عورتیں سینہ کوب تھیں، مرد سر جھکائے کھڑے تھے، بچے سسک رہے تھے۔ مگر تاریخ کا سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ جب حسینؑ زندہ تھے تو تم کہاں تھے؟
اسی لمحے، اسیری کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی، مگر عظمت و جلال میں پہاڑوں سے بلند، علیؑ و فاطمہؑ کی بیٹی، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی، جنابِ زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کھڑی ہوئیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی فصاحت پھر سے بول اٹھی ہو، جیسے فاطمہ زہراؑ کا احتجاج پھر زندہ ہو گیا ہو۔
آپؑ نے اہلِ کوفہ کی طرف دیکھا۔ وہ لوگ جو اب آنسو بہا رہے تھے، مگر کل نیزے اٹھائے کھڑے تھے۔ وہ لوگ جو خطوط لکھتے تھے مگر وقتِ امتحان یزید کے لشکر میں جا کھڑے ہوئے۔
پھر زینبؑ کی آواز گونجی
يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ، يَا أَهْلَ الْخَتْلِ وَالْغَدْرِ، أَتَبْكُونَ؟ فَلَا رَقَأَتِ الدَّمْعَةُ، وَلَا هَدَأَتِ الرَّنَّةُ…
ترجمہ: “اے اہلِ کوفہ! اے مکر، فریب اور بے وفائی والو! کیا اب تم روتے ہو؟ اللہ کرے تمہارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمہاری آہ و زاری کبھی ختم نہ ہو۔”
یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ کوفہ کے ضمیر پر قیامت کا فیصلہ تھا۔
زینبؑ نے ان کے آنسو قبول نہیں کیے، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ایمان کا معیار آنسو نہیں، وفاداری ہے۔ محبت کا معیار دعویٰ نہیں، قربانی ہے۔ حق کی پہچان کا معیار گریہ نہیں، حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔
آپؑ گویا فرما رہی تھیں کہ اگر آنسو ہی کافی ہوتے تو کربلا برپا نہ ہوتی، اگر افسوس ہی نجات دیتا تو حسینؑ کا سر نیزے پر نہ اٹھتا، اگر صرف محبت کا دعویٰ کافی ہوتا تو فرات کے کنارے اہلِ بیتؑ پیاسے نہ رہتے۔
زینبؑ نے کوفہ کو یہ احساس دلایا کہ ظالم کا جرم اپنی جگہ، مگر مظلوم کو تنہا چھوڑ دینا بھی تاریخ کا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ تلوار چلانے والے مجرم ضرور ہیں، لیکن حق کو پہچان کر خاموش رہنے والے بھی تاریخ کے کٹہرے سے نہیں بچ سکتے۔
یہ خطبہ صرف سن 61 ہجری کے کوفہ کے لیے نہیں تھا۔ یہ ہر اس معاشرے کے لیے تھا جو حق کو پہچان لے مگر مصلحت کے نام پر خاموش ہو جائے؛ جو ظلم پر افسوس تو کرے مگر ظالم کے خلاف آواز نہ اٹھائے؛ جو شہداء کے لیے آنسو تو بہائے مگر ان کے راستے پر چلنے کی قیمت ادا نہ کرے۔
آج بھی زینبؑ کی وہ آواز زمانے کے سینے میں گونج رہی ہے:
تم حسینؑ پر روتے ضرور ہو… مگر کیا تم حسینؑ کے ساتھ بھی ہو؟
تم ظلم پر لعنت بھیجتے ہو… مگر کیا ظلم کے سامنے خاموش نہیں ہو؟
تم اہلِ بیتؑ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو… مگر جب حق تنہا رہ جائے تو کیا تم اس کے محافظ بنتے ہو؟
یاد رکھو! کربلا صرف یزید کے جرم کا نام نہیں، کربلا اُن خاموش لوگوں کی داستان بھی ہے جنہوں نے حق کو پہچان لیا، مگر اس کی نصرت نہ کی۔
اور اسی لیے زینبؑ کی وہ ایک للکار آج بھی ہر دور کے انسان کا تعاقب کر رہی ہے:
“اے اہلِ کوفہ! صرف آنسو نہیں… وفا لاؤ۔ صرف ماتم نہیں… غیرت لاؤ۔ صرف محبت کے دعوے نہیں… حسینؑ کے راستے پر ثابت قدمی دکھاؤ۔”
کاش! صاحبان یہ سمجھ لیں کہ زینبؑ نے کوفہ کو رلایا نہیں تھا، ضمیر جگایا تھا۔
حوالہ:
الاحتجاج، ج 2، خطبۂ حضرت زینبؑ، ص 109 (مختلف طبعات میں صفحہ نمبر مختلف ہو سکتا ہے)۔
بحار الأنوار، ج 45، ص 108–111۔
اللهوف على قتلى الطفوف، مجلس ورود اسراء إلى الكوفة۔









آپ کا تبصرہ